نظم خطاب بہ جوانان اسلام کی تشریح
علامہ اقبال کی نظم “خطاب بہ جوانانِ اسلام” مسلمانوں کے نوجوانوں کے لیے ایک بیداری اور خود شناسی کا پیغام ہے۔ اقبال نے اس نظم میں نوجوانوں کو ان کے درخشاں ماضی کی یاد دلائی ہے، جب مسلمان دنیا کی عظیم ترین تہذیب، علم و حکمت، اور قیادت کے مالک تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح صحرائے عرب کے بادیہ نشین دنیا کے حکمران بنے اور دنیا کو تمدن، عدل، اور علم کا درس دیا۔اقبال افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ آج کا نوجوان اپنے اسلاف کی میراث کو فراموش کر چکا ہے اور محض گفتار کا غازی بن کر رہ گیا ہے۔ نظم میں مسلمانوں کے زوال اور مغربی دنیا کے ہاتھوں اپنے علمی و تہذیبی ورثے کے چھن جانے کا دکھ بھی بیان ہوا ہے۔ اقبال نوجوانوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ خودی کو پہچانیں، کردار کی بلندی کو اپنائیں اور پھر سے اپنے کھوئے ہوئے مقام کو حاصل کریں۔ یہ نظم نہ صرف ماضی کا شاندار نقشہ کھینچتی ہے بلکہ موجودہ نسل کے لیے ایک زبردست فکری و روحانی پیغام رکھتی ہے۔ مزید معلوماتکے لیے ملاحظہ کیجے ہماری ویب سائیٹ علمو۔
شعر 1: کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھی کیا تو نے وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
تشریح: اقبال نوجوان مسلمان کو جھنجھوڑتے ہوئے مخاطب کرتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ کیا تُو نے کبھی غور و فکر کیا کہ تو کس عظیم قوم کا وارث ہے؟ وہ قوم جو آسمانوں کو چھو رہی تھی، دنیا کی پیشوا تھی اور آسمان کی مانند بلندیوں پر تھی، آج کیوں ایک ٹوٹے ہوئے تارے کی مانند ہے؟ یہاں “گردوں” کا مطلب آسمان ہے اور “ٹوٹا ہوا تارا” زوال کی نشانی ہے۔ اقبال یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کا ماضی بے مثال تھا، مگر آج کے نوجوان نے اس ماضی پر غور نہیں کیا اور نہ ہی اپنی گمشدہ عظمت کی تلاش کی۔ اقبال نوجوان کو دعوتِ فکر دے رہے ہیں کہ وہ اپنی تاریخ اور ورثے پر تدبر کرے اور یہ سمجھے کہ وہ کتنی بلند قوم کا وارث ہے جو اب زوال پذیر ہو چکی ہے۔ شاعر نوجوانوں کو بیداری، خود شناسی اور خود احتسابی کی ترغیب دیتے ہیں تاکہ وہ اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو دوبارہ حاصل کر سکیں۔
شعر 2: تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سر دارا
تشریح: اس شعر میں اقبال نوجوان کو یاد دلاتے ہیں کہ تُو اس قوم کا فرزند ہے جس نے محبت و ایثار کے ماحول میں تجھے پروان چڑھایا ہے، وہی قوم جس نے دنیا کے بڑے بڑے تاج و تخت خاک میں ملا دیے تھے۔ “تاج سر دارا” سے مراد ہے دارا، ایران کا بادشاہ، جس کی سلطنت کو مسلمانوں نے زیر کر لیا تھا۔ اقبال یہ باور کرا رہے ہیں کہ مسلمانوں نے تاریخ میں وہ کارنامے سرانجام دیے جو دنیا کے عظیم فاتحین بھی نہ کر سکے۔ اس شعر میں قوم کی عظمت اور بہادری کا ذکر ہے کہ کس طرح اس قوم نے دنیا کی بڑی بڑی سلطنتوں کو پاؤں تلے روند ڈالا۔ یہ شعر نوجوانوں کو اپنی تاریخ سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ اُن کے اندر جذبہ بیدار کرنے کی ایک کوشش ہے کہ وہ بھی اپنے اسلاف کی مانند بلند حوصلہ اور غیرت مند بنیں۔
شعر 3: تمدن آفریں خلاق آئین جہاں داری وہ صحرائے عرب یعنی شتربانوں کا گہوارا
تشریح: یہاں اقبال عرب کے صحرا کو یاد کر رہے ہیں، جہاں اونٹ چرانے والے بدو، یعنی صحرانشین، بستے تھے۔ مگر انہی بدوؤں نے دنیا کو تمدن، تہذیب، قانون، اور حکمرانی کے ایسے اصول عطا کیے جو رہتی دنیا تک زندہ رہیں گے۔ شاعر نے “تمدن آفرین” اور “خلاق آئین جہاں داری” جیسے الفاظ استعمال کر کے عرب کے صحرائی لوگوں کی عظمت بیان کی ہے کہ انہوں نے نہ صرف دنیا کی قیادت کی، بلکہ ایسا شاندار نظام عطا کیا جو دنیا کی تقدیر بدل گیا۔ یہ شعر نوجوانوں کو یہ احساس دلانے کے لیے ہے کہ وہ اس قوم سے تعلق رکھتے ہیں جس نے ویران صحراؤں سے نکل کر دنیا کے بڑے بڑے شہروں کو علم و حکمت سے منور کر دیا۔ اقبال یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر صحرا کے بادیہ نشین یہ کارنامے انجام دے سکتے ہیں تو آج کے نوجوان بھی اگر اپنی اصل پہچان پا لیں تو دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم کر سکتے ہیں۔
شعر 4: سماں ‘الفقر فخری’ کا رہا شانِ امارت میں ”بآب و رنگ و خال و خط چہ حاجت روے زیبا را”
تشریح: اس شعر میں اقبال اس حقیقت کو بیان کرتے ہیں کہ عرب کے مسلمانوں کا مزاج اور کردار کیا تھا۔ وہ لوگ دنیاوی مال و دولت کو حقیر سمجھتے تھے اور ان کی امارت اور اقتدار بھی درحقیقت فقر یعنی سادگی اور خدا پر توکل سے مزین تھی۔ حضور اکرم ﷺ کا فرمان “الفقر فخری“ (فقر میرا فخر ہے) اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمانوں کے نزدیک سادہ زندگی اور اللہ پر بھروسہ سب سے بڑی دولت تھا۔ آگے اقبال فارسی کا مصرع لاتے ہیں کہ “بآب و رنگ و خال و خط چہ حاجت روے زیبا را”، جس کا مطلب ہے کہ خوبصورت چہرے کو آرائش و زیبائش کی ضرورت نہیں۔ اس مثال سے اقبال بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کی عظمت، ان کے کردار اور باطنی حسن میں تھی، انہیں دنیاوی چمک دمک کی حاجت نہ تھی۔ یہ شعر آج کے نوجوان کو سبق دیتا ہے کہ وہ دوبارہ اس سادگی، قناعت اور روحانی بلندی کو اپنائے، جو اسلاف کی شان تھی۔
شعر 5: گدائی میں بھی وہ اللہ والے تھے غیور اتنے کہ منعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا یارا
تشریح: اس شعر میں اقبال مسلمانوں کی غیرت اور خودداری کا ذکر کرتے ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ وہ اللہ والے، یعنی صحابہ کرام اور ابتدائی مسلمان، ظاہری طور پر اگر تنگدست بھی ہوتے تو پھر بھی اتنے باوقار اور غیرت مند تھے کہ امیر لوگ ان کے سامنے کچھ دینے کی جرات نہ کرتے۔ یہ فقر صرف غربت نہ تھی بلکہ ایک باطن کی دولت تھی، جس میں عزتِ نفس، غیرت، اور توکل شامل تھا۔ اقبال اس شعر میں نوجوانوں کو سمجھاتے ہیں کہ اصل عزت دنیاوی دولت میں نہیں، بلکہ اس باطنی غیرت و حمیت میں ہے جو مسلمانوں کے اندر ہوا کرتی تھی۔ آج کے نوجوان کے لیے یہ پیغام ہے کہ وہ دوبارہ اپنے اندر وہی کردار اور خودداری پیدا کرے تاکہ دنیا اس کی عزت کرے، نہ کہ وہ دنیا کے سامنے دست سوال دراز کرے۔
شعر 6: غرض میں کیا کہوں تجھ سے کہ وہ صحرا نشیں کیا تھے جہاں گیر و جہاں دار و جہاں بان و جہاں آرا
تشریح: اقبال یہاں بے بسی کے انداز میں نوجوان سے کہتے ہیں کہ میں الفاظ میں کیسے بیان کروں کہ وہ صحرا نشین، یعنی عرب کے ابتدائی مسلمان کیا تھے؟ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے دنیا کو فتح کیا، دنیا پر حکومت کی، دنیا کا انتظام و انصرام سنبھالا اور دنیا کو سنوارا۔ “جہاں گیر” سے مراد وہ لوگ ہیں جو دنیا کو فتح کریں، “جہاں دار” وہ جو دنیا پر حکومت کریں، “جہاں بان” وہ جو دنیا کا نگہبان بنیں، اور “جہاں آرا” وہ جو دنیا کو آرائش و حسن عطا کریں۔ یہ شعر اسلاف کی ہمہ جہت عظمت کو بیان کرتا ہے کہ وہ محض حکمران نہیں تھے بلکہ دنیا کی اصلاح و ترقی کے علمبردار تھے۔ اقبال نوجوانوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنی تاریخ کو سمجھے اور ان عظیم لوگوں کے نقش قدم پر چلے۔
شعر 7: اگر چاہوں تو نقشہ کھینچ کر الفاظ میں رکھ دوں مگر تیرے تخیل سے فزوں تر ہے وہ نظارا
تشریح: یہاں اقبال کہتے ہیں کہ اگر میں چاہوں تو ماضی کے مسلمانوں کی شان و شوکت کا پورا نقشہ لفظوں میں بیان کر دوں، مگر وہ نظارہ، وہ حقیقت، اس قدر عظیم اور شاندار ہے کہ تیرے محدود تخیل سے بھی آگے کی چیز ہے۔ یعنی آج کے نوجوان کی سوچ اس قابل نہیں رہی کہ وہ اس عظمت کو مکمل طور پر سمجھ سکے۔ اس شعر میں اقبال نوجوانوں کی ذہنی پستی اور کمزور تخیل پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور انہیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ تمہارے آبا کا ماضی الفاظ سے باہر ہے، وہ کردار، وہ عزت، وہ دنیا میں اثر انگیزی، آج تمہارے تصور سے بھی بالا تر ہو چکی ہے۔ یہ ایک چیلنج ہے کہ نوجوان اپنی سوچ کو وسیع کرے اور اپنی تاریخ کی گہرائی کو سمجھنے کی کوشش کرے۔
شعر 8: تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی کہ تو گفتار وہ کردار، تو ثابت وہ سیارا
تشریح: اس شعر میں اقبال نوجوانوں پر سخت تنقید کرتے ہیں کہ تم اپنے آباؤ اجداد سے کوئی نسبت نہیں رکھتے۔ تم محض زبانی دعوے کرنے والے ہو، تمہارا کردار کمزور ہے جبکہ تمہارے اسلاف عمل و کردار کے غازی تھے۔ “ثابت” سے مراد یہاں ثابت قدم، پختہ اور محکم مزاج ہے جبکہ “سیارا” یعنی آوارہ سیارہ، جو ادھر ادھر بھٹکتا پھرتا ہے۔ اقبال آج کے نوجوان کو بتاتے ہیں کہ تمہارے آباؤ اجداد میں استقلال، عزم اور مضبوطی تھی جبکہ تمہارا حال بے سمت اور کمزور لوگوں جیسا ہو چکا ہے۔ یہ شعر نوجوان کو کردار کی پختگی، عملیت اور جدوجہد کی تلقین ہے تاکہ وہ بھی اپنے آبا کی طرح کردار کا پہاڑ بن سکے۔
شعر 9: گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
تشریح: اس شعر میں اقبال افسوس اور ملال کا اظہار کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے اپنے اسلاف سے جو عظیم میراث پائی تھی، وہ کھو دی۔ وہ میراث علم، کردار، غیرت، ایمان اور قیادت کی تھی جس کی بدولت مسلمان ثریا (یعنی ستاروں کی بلندی) سے بھی آگے نکل گئے تھے۔ “ثریا” عربی میں ایک ستارے کا نام ہے اور مراد بلندی ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی حالت یہ تھی کہ وہ آسمان کی بلندیوں پر فائز تھے لیکن اپنے عمل اور غفلت کی وجہ سے آج زمین پر گرا دیے گئے ہیں۔ “آسماں نے ہم کو دے مارا” ایک استعاراتی انداز ہے جو زوال کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ اقبال نوجوانوں کو متنبہ کر رہے ہیں کہ ان کے آباؤ اجداد نے عظمت حاصل کی تھی لیکن آج کے مسلمان اس عظمت سے محروم ہو چکے ہیں کیونکہ وہ اس ورثے کی قدر نہ کر سکے۔
شعر 10: حکومت کا تو کیا رونا کہ وہ اک عارضی شے تھی نہیں دنیا کے آئین مسلم سے کوئی چارا
تشریح: یہاں اقبال حکومت اور اقتدار کو دنیاوی اور وقتی شے قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ صرف سیاسی حکومت کا رونا رونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اقتدار ایک عارضی چیز ہے اور دنیا میں ہمیشہ ایک جیسا حال نہیں رہتا۔ اصل بات تو یہ ہے کہ مسلمانوں نے دنیا کو جو نظامِ زندگی دیا تھا، وہ دنیا کے تمام موجودہ نظاموں سے برتر تھا اور آج بھی ہے۔ “نہیں دنیا کے آئین مسلم سے کوئی چارا” کا مطلب ہے کہ دنیا کا کوئی دوسرا نظام اسلام کے عادلانہ اور مکمل نظام کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ اقبال اس شعر میں دنیا کو یہ پیغام بھی دیتے ہیں کہ چاہے مسلمان سیاسی اقتدار سے محروم ہو گئے ہوں، مگر ان کے نظریات اور اصول آج بھی دنیا کے لیے ناگزیر ہیں۔ نوجوانوں کو تلقین کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے اصل پیغام یعنی دین کے نظام کو دنیا کے سامنے دوبارہ پیش کریں۔
شعر 11: مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آبا کی جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا
تشریح: اس شعر میں اقبال مسلمانوں کی علمی زبوں حالی کا نوحہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے اسلاف نے علم کے جو موتی چنے تھے، جو قیمتی کتابیں اور علمی خزانے مسلمانوں نے دنیا کو دیے تھے، آج وہ سب یورپ کے کتب خانوں کی زینت بن چکے ہیں۔ جب ہم انہیں وہاں دیکھتے ہیں تو دل رنجیدہ ہو جاتا ہے۔ “سیپارا” کا مطلب ہے ٹکڑے ٹکڑے ہونا۔ اقبال یہاں مسلمانوں کے علمی ورثے کے چھن جانے کا دکھ بیان کرتے ہیں اور اس بات پر افسوس کرتے ہیں کہ وہ علمی سرمایہ جو مسلمانوں کے پاس ہونا چاہیے تھا، وہ آج مغرب کے پاس ہے۔ یہ شعر نوجوانوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اس علمی ورثے کی بازیافت کریں اور اپنے اسلاف کی علمی روایت کو زندہ کریں تاکہ دنیا میں دوبارہ علم و دانش کا چراغ روشن ہو۔
شعر 12: غنی! روزِ سیاہِ پیرِ کنعان را تماشا کن کہ نورِ دیدہ اش روشن کند چشمِ زلیخا را
تشریح: یہ شعر فارسی کا ہے اور اقبال نے اسے بطور حوالہ نظم کے آخر میں شامل کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے غنی! (صوفی بزرگ غنی کشمیری کی طرف اشارہ ہے)، کنعان کے بوڑھے (یعقوب علیہ السلام) کا سیاہ دن دیکھو کہ جس کی آنکھوں کا نور (یوسف علیہ السلام) زلیخا کی آنکھوں کو بھی روشن کر رہا ہے۔ اس کا پس منظر قرآن مجید کی وہ داستان ہے جس میں حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام کے دوبارہ ملنے پر ان کی بینائی واپس آ جاتی ہے۔
اقبال اس مصرعے کے ذریعے امید دلاتے ہیں کہ جیسے حضرت یعقوب کے دکھ کا انجام خوشی پر ہوا، ویسے ہی مسلمانوں کے زوال کا اختتام بھی ایک نئی بیداری اور روشنی پر ہوگا۔ شاعر کا پیغام یہ ہے کہ مایوسی کا کوئی مقام نہیں، زوال کے بعد عروج بھی آ سکتا ہے، بس ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان خود کو پہچانیں اور اپنی عظمت کو دوبارہ زندہ کریں۔
We offer you our services to Teach and Learn Languages, Literatures and Translate. (Urdu, English, Bahasa Indonesia, Hangul, Punjabi, Pashto, Persian, Arabic)
اس آرٹیکل کو بہتر بنانے میں ہماری مدد کریں
اگر آپ کو اس آرٹیکل میں کوئی غلطی نظر آ رہی ہے۔ تو درست اور قابلِ اعتبار معلومات کی فراہمی میں ہماری مدد کریں۔ ہم درست معلومات کی ترسیل کے لیے سخت محنت کرتے ہیں ۔ Ilmu علموبابا اگر آپ بھی ہمارے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرنا چاہتے ہیں تو ہماری اس کمیونٹی میں شامل ہو کر معلومات کے سلسلے کو بڑھانے میں ہماری مدد کریں۔ ہمارے فیس بک ، وٹس ایپ ، ٹویٹر، اور ویب پیج کو فالو کریں، اور نئی آنے والی تحریروں اور لکھاریوں کی کاوشوں سے متعلق آگاہ رہیں۔